نئی دہلی 13/مارچ (ایس او نیوز) شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے اور بعد میں دہلی میں پیش آئے تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرکے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے صدر اورسکریٹری سمیت جن تین ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا اُن تینوں کو دہلی عدالت نے جمعہ کے روز ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
یاد رہے کہ پولیس نے جمعرات کو دہلی کے شاہین باغ میں مظاہروں کو ہوا دینے کے الزام میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے صدر پرویز احمد اور اس کے سکریٹری محمد الیاس کو گرفتار کیاتھا۔بتایا گیا تھا کہ پولیس کے اس عمل کی بنیاد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی رپورٹ تھی جس نے ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہروں میں منی لانڈرنگ اور مالی اعانت کے الزام میں تنظیم کے خلاف کارروائی کی تھی۔ مگر ان کے خلاف ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر دہلی عدالت نے تینوں کو ضمانت دے دی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پی ایف آئی کا صدر دفتر شاہین باغ میں واقع ہے، مگر مرکز اور پولیس نے پی ایف آئی پر شاہین باغ احتجاج کو مالی اعانت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا، یاد رہے کہ شاہین باغ احتجاج اب تیسرے مہینے میں داخل ہوچکا ہے۔
واضح رہے کہ دہلی میں پی ایف آئی لیڈران کی گرفتاری کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے ۔ اس موقع پر پی ایف آئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’پاپولر فرنٹ کے ریاستی صدر پرویز احمد، ریاستی سکریٹری محمد الیاس کو پولیس تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل ایک اور پاپولرفرنٹ کے ممبر دانش کو بھی من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو بدنام کرنے کے لیے ایک دھواں دھار مہم چلائی جارہی ہے، در حقیقت نشانہ محض ایک خاص تنظیم ہی نہیں ہے بلکہ سی اے اے-این پی آر اوراین آر سی اور دہلی فسادات کے آر ایس ایس-بی جے پی ایجنڈے کی مخالفت کرنے والی تمام آوازیں اور کوششیں ہیں۔
بتایا جارہا تھا کہ ای ڈی نے اپنی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر پی ایف آئی دہلی کے کئی عہدیداروں سے استفسار بھیکیا تھا۔ تینوں کی ضمانت ایسے وقت ہوئی ہے جب یہ لوگ پولس کسٹڈی میں تھے اور پولس عدالت سے انہیں مزید پولس کسٹڈی میں دینے کی درخواست کررہی تھی، مگر عدالت نے تینوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے تینوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔